اسلام مرد کو تو طلاق کا حق دیتا ہے، عورت کو کیوں نہیں؟
 اسلام مرد کو تو طلاق کا حق دیتا ہے، عورت کو کیوں نہیں؟

ایک مفتی صاحب اور لبرل کے درمیان دلچسپ مکالمہ!

لبرل شخص:
 صاحب ایک سوال پوچھنا ہے مگر ڈر لگتا ہے کہ آپ کوئی فتویٰ ہی نہ لگادیں۔
مفتی صاحب:
 پوچھو پوچھو۔۔۔!! سوال پوچھنے پر کوئی فتوی نہیں۔
لبرل شخص: 
یہ بتائیں کہ اسلام مرد کو طلاق کا حق دیتا ہے، عورت کو کیوں نہیں دیتا۔۔۔۔؟؟ کیا عورت انسان نہیں؟؟؟ کیا اس کے حقوق نہیں؟؟؟ یہ کیا بات ہے کہ مرد تو جب چاہے عورت کو دو لفظ طلاق کے کہہ کر فارغ کر دے اور عورت ساری زندگی اس کے ظلم کی چکی میں پسنے کے باوجود بھی اپنی جان بخشی نہ کرا سکے ۔۔۔؟؟؟ کیا یہ ظلم نہیں ؟؟؟
مفتی صاحب:
 تمہارے سوال کا جواب دیتا ہوں، مگر پہلے تم مجھے ایک بات بتاؤ ۔۔۔!!
لبرل شخص: 
جی مفتی صاحب۔۔۔!!
مفتی صاحب:
یہ بتاؤ کہ تم ایک بس میں کہیں جانے کے لئے سوار ہوئے، بس والے کو کرایہ دیا، ٹکٹ لی سیٹ پر بیٹھے، سفر شروع ہوا۔۔۔ کیا بس والا تمہیں منزل پر پہنچنے سے پہلے کہیں راستے میں، کسی جنگل، کسی ویرانے میں اتارنے کا حق رکھتا ہے۔۔۔؟؟؟
لبرل شخص: 
بالکل نہیں۔۔۔۔۔
مفتی صاحب:
ٹھیک۔۔۔!! اب یہ بتاؤ کہ اگر تم راستے میں کہیں اترنا چاہو تو تمہیں اس کا حق حاصل ہے یا نہیں؟؟؟
لبرل شخص:
بالکل ہے، میں خود جہاں چاہوں اتر سکتا ہوں۔
مفتی صاحب: 
وجہ ۔۔۔؟؟؟
لبرل شخص:
 وجہ یہ مفتی صاحب! کہ وہ مجھ سے کرایہ لے چکا ہے، لہذا منزل سے پہلے کہیں نہیں اتار سکتا، اور میں جہاں چاہوں اتر سکتا ہوں، وہ مجھے نہیں روک سکتا، اس لئے کہ اس کا کام کرائے کے ساتھ تھا جو وہ مجھ سے لے چکا ہے۔
مفتی صاحب:
 بالکل ٹھیک۔۔۔ !!! اب ایک اور بات بتاؤ ۔۔۔!! تم ایک مزدور کو لے کر آئے ایک دن کے کام کے لئے، اس نے کام شروع کیا، اینٹیں بھگوئیں، سیمنٹ بنائی، دیوار شروع کی، اور آٹھ، دس اینٹیں لگا کر کام چھوڑ کے گھر کو چل دیا، تمہارا رد عمل کیا ہو گا۔۔۔؟؟؟
لبرل شخص:
 میں اسے پکڑ لوں گا، نہیں جانے دوں گا، کام پورا کرے گا تو اسے چھٹی ملے گی۔۔۔!!!
مفتی صاحب:
 اور اگر تم اسے کام کے درمیان میں فارغ کرنا چاہو تو۔۔۔؟؟؟
لبرل شخص: 
مجھے اس کی اجرت دینی ہوگی، اجرت دینے کے بعد میں اسے کسی بھی وقت فارغ کر سکتا ہوں۔۔۔۔!!
مفتی صاحب: 
اگر وہ کہے کہ میں اجرت لینے کے باوجود نہیں جاتا ۔۔۔۔؟؟؟
لبرل شخص: 
وہ ایسا نہیں کر سکتا، میں اسے لات مار کر نکال دونگا۔۔۔!!
مفتی صاحب: ب
الکل ٹھیک۔۔۔۔! اب اپنے سوال کا جواب سنو۔۔۔!!
دنیا میں جس قدر بھی معاملات ہوتے ہیں، ان میں ایک فریق رقم خرچ کرنے والا ہوتا ہے تو دوسرا اس پیسے کے بدلے میں خدمت کرنے والا۔۔۔ دنیا کا اصول یہ ہے کہ ہمیشہ پیسہ خرچ کرنے والے کا اختیار دوسرے سے زیادہ ہوتا ہے، کوئی معاملہ طے ہونے کے وقت تو دونوں فریقوں کی رضا ضروری ہے، لیکن معاملہ طے ہو جانے کے بعد اس کے انجام تک پہنچنے سے پہلے رقم خرچ کرنے والا فرد تو واجبات کی ادائیگی کے بعد خدمت کرنے والے کو فارغ کرسکتا ہے۔ مگر خدمت فراہم کرنے والا فریق کام درمیان میں چھوڑ کر خرچ کرنے والے کو فارغ نہیں کر سکتا۔۔۔!!
اگر رقم کے بدلے میں خدمت فراہم کرنے والے فریق کو کسی بھی وقت پیسہ خرچ کرنے والے کو فارغ کرنے کا اختیار دے دیا جائے تو مزدور دوپہر کو ہی کام چھوڑ کر گھر چلے جائیں گے، ملازم عین ڈیوٹی کے درمیان غائب ہو جائیں گے، مالک مکان مہینے کے درمیان ہی کرائے دار کو گھر سے نکال دیں گے ، درزی آپ کا سوٹ آدھا سلا اور آدھا کٹا ہوا آپ کے حوالے کر کے باقی کام کرنے سے انکار کر دے گا، نائی آپ کے آدھے سر کی ٹنڈ کر کے آپ کو دوکان سے باہر نکال دے گا، دنیا کا سب نظام الٹ پلٹ ہو جائے گا۔ کچھ سمجھا۔۔۔۔۔؟؟؟
لبرل شخص:
 ہاں ہاں مفتی صاحب! سمجھ رہا ہوں، مگر میں تو وہ طلاق والی بات۔۔۔!!
مفتی صاحب: 
وہی سمجھا رہا ہوں۔ اب سنو۔۔۔!!
ایک مرد اور ایک عورت میں جب نکاح کا پاکیزہ، محبت، پیار اور اعتماد والا رشتہ ہوتا ہے تو یہ کوئی کاروباری یا جُز وقتی معاملہ نہیں ہوتا، یہ دلوں کا سودا، اور ساری زندگی کا سودا ہے، مگر اس میں بھی اسلام ہمیں کچھ اصول اور ضوابط دیتا ہے۔
اس معاملے اور معاہدے میں ایک فریق مرد ہوتا ہے اور دوسرا فریق عورت۔ 
معاملہ طے(یعنی نکاح) ہونے کے بعد مرد کے ذمے عورت کے کچھ حقوق لازم ہوجاتے ہیں
مثلاً
1. اسلام اس کے اوپر اس کی بیوی کا سارا خرچ، کھانا پینا، رہن سہن ، علاج معالجہ، کپڑا، زیور، لین دین، اور زندگی کی ہر ضرورت کا بوجھ ڈالتا ہے۔
2.  اب اس عورت کی ساری زندگی کی ہر ذمہ داری اس مرد پر ہے۔
3.  یہی شوہر اس کی عزت کا محافظ اور ذمہ دار ہوتا ہے۔
4.  یہی اس کی ہر ضرورت کا بھی مسئول (ذمہ دار) ہوتا ہے۔
5.  یہاں تک کہ اس عورت کے مرنے کے بعد اس کے کفن دفن کا بندوبست بھی اسی مرد کو کرنا ہوتا ہے۔
 6.  شوہر کے مرنے کی صورت میں اس  کی بہت سی وراثت بھی اسی عورت کو ملتی ہے۔ 
7. ان دونوں میاں بیوی سے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ یوں تو دونوں ہی کے ہوتے ہیں، مگر اسلام ان بچوں کی مکمل مالی ذمہ داری بھی صرف اور صرف مرد پر ڈالتا ہے۔ 
8. ان بچوں کی رہائش کھانا پینا، کپڑے، علاج معالجہ اور تعلیم و تربیت کے تمام مالی اخراجات صرف مرد کے ذمہ ہوتے ہیں۔
جبکہ اسلام عورت کو ان تمام ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آزاد ر کھتا ہے۔
9. ان سب ذمہ داریوں سے پہلے، عقد نکاح کے وقت ہی مرد نے مہر کے عنوان سے ایک بھاری رقم بھی عورت کو ادا کرنی ہوتی ہے۔
10. ان سب کے علاوہ اسلام مرد کو اس کی بیوی کے بارے میں حسنِ سلوک کی تلقین کرتا ہے، وہ اسے"مَنْ قُتِلَ دُونَ عِرْضِهٖ فَهُوَ شَهِيدٌ" کی خوشخبری سنا کر اپنی بیوی کی عزت کی حفاظت کے لئے جان تک دے دینے کی ترغیب دیتا ہے۔
11. اور "حَتَّى اللُّقْمَةُ الَّتِي تَرْفَعُهَا إِلىٰ فِىْ اِمْرَأَتِك" کہہ کر اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنے پر بھی ثواب کی نوید سناتا ہے۔
12.  وہ اسے "اِتَّقُوا اللَّهَ فِى النِّسَاءِ" کہہ کر بیوی کو تنگ کرنے، ستانے، بلاوجہ مارنے ، دھمکانے اور پریشان کرنے پر اللہ کی ناراضگی اور عذاب کی وعید سناتا ہے تو "خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لأَهْلِهِ وَأَنَاخَيْرُكُمْ لأَهْلِي" کہہ کر گھر والوں کو محبت، پیار، سکون دینے، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھنے اور انہیں جائز حد میں رہ کر خوش رکھنے پر اللہ کی رضا کی نوید سناتا اور ایسے لوگوں کو بہترین انسان قرار دیتا ہے۔
مرد پر اس قدر ذمہ داریاں عائد کرنے کے بعد اسلام بیوی پر صرف اپنے شوہر کی خدمت، اطاعت، اس کے ساتھ وفاداری، اس کے گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔
مرد اور عورت کے اس معاہدے میں عورت کی ساری زندگی کی ہر مالی ذمہ داری مرد پر ہے، تو تم خود بتاؤ کہ طلاق کا حق ان دونوں میں سے کس کے پاس ہونا چاہیے۔۔۔؟؟؟
لبرل شخص: 
ویسے ہو نا تو مرد کے پاس ہی چاہیے لیکن۔۔۔ ویسے اگر عورت کو بھی یہ حق دے دیا جائے تو آخر اس میں حرج کیا ہے۔۔۔ ؟؟؟
مفتی صاحب:
 بھئی! فرض کرو تم نے ایک خوبصورت عورت کا رشتہ پسند کیا، رشتہ بھیجا، بات چلی، رشتہ طے ہو گیا، انہوں نے ایک لاکھ مہر کا مطالبہ کیا، تم نے منظور کیا، نکاح ہو گیا، نکاح پر بھی لاکھوں روپے خرچ کئے، تم نے جوں ہی نکاح کر کہ مہر اس کے حوالے کیا، اگر خدانخواستہ اس نے نکاح ہوجانے اور مہر لینے کے بعد دوسرے دن کہ دیا:
"میں تمہیں طلاق دیتی ہوں، طلاق طلاق۔۔۔"
اور چند دن بعد اس نے کسی اور مرد سے شادی کر لی تو تمہارے دل پر کیا بیتے گی مسٹر ۔۔۔؟؟؟
لبرل شخص:
 اوہ مفتی صاحب! آپ نے تو میرے ہوش اڑا دیئے، یہ تو بہت خوفناک بات ہے۔
مفتی صاحب:
 صرف یہی نہیں مسٹر !! اس سے آگے چلو، اب جو مرد کھلے دل سے بیوی پر اپنا مال، جان، دل سب کچھ لٹاتا ہے، اس کے نخرے اٹھاتا ہے، صرف اس لئے کہ وہ اسے ہمیشہ کے لئے اپنی سمجھتا ہے۔۔۔ اگر اس کے دل میں یہ خوف پیدا ہو جائے کہ یہ کسی بھی وقت اسے لات مار کر کسی دوسرے آشیانے کو روانہ ہو سکتی ہے، تو وہ اسے گندم کا ایک دانہ بھی دیتے وقت سو مرتبہ سوچے گا، اور صرف مرد کی نہیں اس عورت کی زندگی بھی ہمیشہ کے لئے جہنم بن جائے گی۔۔۔!!
لبرل شخص: 
سمجھ گیا سمجھ گیا۔۔۔!! انتہائی خوفناک۔۔۔!! بہت ہی خطرناک سچوئشن۔۔۔!! 
مگر ایک بات مفتی صاحب ۔۔۔!! کہ کبھی کبھی ایسے ہوتا ہے، اور اب تو بہت سے گھرانوں میں ہو رہا ہے، کہ مرد اپنی بیوی کے ساتھ نہ تو انصاف کرتا ہے ، اور نہ اس کی جان چھوڑتا ہے یعنی نہ اسے بساتا ہے اور نہ ہی اسے طلاق دیتا ہے تا کہ کسی اور سے شادی کر سکے۔ اس صورت میں کیا کیا جائے۔۔۔؟؟؟
مفتی صاحب:
 آہ! کیا دل دکھانے والا سوال پوچھ لیا تم نے۔۔۔!
لبرل شخص:
 کیوں مفتی صاحب۔۔۔ ؟؟؟ اس میں دل دکھانے والی کیا بات ہے۔؟؟؟
مفتی صاحب:
 دیکھو مسٹر ۔۔۔!! ان تمام مسائل کا حل اور مکمل حل اسلامی نظام ہے، وہی اسلامی نظام جس کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لئے تم جیسے لبرل لوگ ساڑھے چوبیس گھنٹے پھرتیاں دکھاتے رہتے ہو۔۔۔!!
اگر مکمل طور پر اسلامی نظام قائم ہو، ہر طرف اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی عزت، اہمیت اور بالادستی ہو تو ایک طرف تو سب لوگوں میں اللہ کا خوف، تقویٰ، نیکی کا شوق اور برائی سے دوری کے احساسات پیدا ہونگے، اور یہ وہ چیزیں ہیں جو ہر سطح پر ظلم، زیادتی اور گناہ کو روکنے کے لئے وہ کردار ادا کرتی ہیں جو پولیس، فوج اور عدالت بھی نہیں کر سکتی۔۔۔ مگر افسوس کہ تم لوگ پوری توانائی اسی خوفِ خدا اور دینداری کو ملیامیٹ کرنے پر صرف کرتے ہو، اپنے آشیانے کو خود آگ لگاتے ہو۔
سن میرے مسٹر بھائی۔۔!!اگر مکمل طور پر اور صحیح معنوں میں اسلامی نظام نافذ ہو تو پہلے تو ایسے واقعات پیش آئیں گے نہیں، اگر اُکا دُکا ایسا ہو بھی جائے تو بیوی فورًا اسلامی عدالت میں جاکر قاضی کو شوہر کی زیادتی کی شکایت کرے گی اور قاضی سالوں تک اس مقدمے کو لٹکانے یا وکیلوں کے ہاتھوں اس کی کھال اتروانے کے بجائے دونوں کا موقف سن کر فوری طور پر عورت کو اس کے شوہر سے اس کا حق دلوائے گا۔ اگر شوہر کسی صورت اس کا حق نہیں دیتا، یا دینے پر قادر ہی نہیں ہے، تو اس سے عورت کو طلاق دینے کا مطالبہ کیا جائے گا اور اگر وہ طلاق بھی نہیں دیتا، تو عدالت اسے جیل میں بند کر دے گی، پولیس والوں کے چھتر کھائے گا، تنہائی اور بے بسی کا مزہ چکھے گا تو خود ہی اسی بیوی کی بے بسی کا بھی احساس پیدا ہو گا، یا تو بیوی کے حقوق پورے کریگا یا طلاق دیکر بیوی کی جان چھوڑے گا اگر ایسا نہ کیا تو جب تک اس کی بیوی عذاب میں رہے گی، وہ بھی اسی دائمی عذاب( یعنی جیل کی سزا) میں مبتلا رہے گا۔
لبرل شخص:
 مفتی صاحب! بلکل آپکی باتیں سمجھ میں آرہی ہیں بہت بہت شکریہ۔۔

(ماخوذ از۔۔۔۔کتاب آزاد خیالی اور اسلام)

✍️۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابو طلحہ سندھی