کافروں کو انبیاء کرام کی قوم اور بھائی کہنے سے کیا مراد ہے؟
 کافروں کو انبیاء کرام کی قوم اور بھائی کہنے سے کیا مراد ہے؟


چند دن پہلے الٹا دفنانے کی وصیت کر کہ فوت ہونے والے قوم پرست رھنماء عطامحمد بھنبھرو کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے قرآن و حدیث سے غلط استدلال کرتے ہوئے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حضورﷺ نے کافروں کو اپنی قوم فرمایا اور اسی طرح دیگر انبیاء کرام نے بھی اپنے دور کے کافروں کو اپنی قوم فرمایا اور قرآن پاک میں کافروں کو انبیاء کا بھائی بھی کہا گیا ہے لھذا ‌همیں بھی کافروں کو اپنی قوم اور اپنا بھائی سمجھنا چاھیئے اور یہ بھی کہا کہ مسلمان ایک قوم نہیں ہیں۔
انکے اس استدلال کا جواب دینے سے پہلے لفظ قوم، قوم پرستی اور عصبیت کا معنی اور مفھوم سمجھئے
قوم کا لفظ عربی زبان سے ہے اور بشمول فارسی و اردو دیگر قریبی زبانوں میں استعمال کیا جاتا ہے جسکا مادہ "ق و م" ہے.
لغوی اعتبار سے اسکا معنی ہے:

لوگوں کا ایک جتھا، ٹولہ، گروہ، جماعت وغیرہ
اور اصطلاحی اعتبار سے اس لفظ کا اطلاق عام طور پر ایسی جماعت پر کیا جاتا ہے جس میں کوئی وجہ جامعیت موجود ہو خواہ وہ مذہبیت ہو یا وطنیت ہو یا نسل یا زبان یا پیشہ یا رنگت یا کوئی صفتِ مادی یا معنوی وغیرہ
یعنی ایسی جماعت یا گروہ جن میں کسی بھی طرح کی جامعیت اور اشتراکیت پائی جائے تو اس پر قوم کا اطلاق کیا جاتا ہے
مثلا جب مذھب میں اشتراکیت ہو تو اسکو ایک قوم کہا جاتا ہے جیسے ھندو قوم سکھ قوم اور مسلم قوم وغیرہ
اور کبھی اسکا اطلاق زبان کے ایک ہونے کی بناء پر ہوتا ہے مثلا سندھی بولنے والوں کو الگ قوم سمجھا جاتا ہے اور پنجابی بلوچی اور پشتو یا کوئی اور زبان بولنے والوں کو الگ۔۔
کبھی اسکا اطلاق وطن میں یکسانیت اور اشتراکیت کی بناء پر کسی جماعت یا گروہ پر ہوتا ہے
جیسے کہا جاتا ہے ھندوستانی قوم ایرانی قوم اور پاکستانی قوم وغیرہ
اور کبھی اسکا اطلاق ھم قبیلہ، ھم برادری اور ھم ذات کی بناء پر کسی جماعت پر ہوتا ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں میمن قوم سے تعلق رکھتا ہے اور فلاں کا تعلق سومرو قوم سے ہے وغیرہ
خلاصۂ کلام یہ کہ قوم کا اطلاق عام ہے اسکا اطلاق صرف ھم زبان اور ھم علاقہ اور ھم وطن لوگوں پر نہیں ہوتا بلکہ کسی بھی طرح کی کوئی وجہ جامعیت اور اشتراکیت پائی جائے تو اس گروہ یا جماعت کو قوم کہ سکتے ہیں۔
اور قوم پرستی(Nationalism) سے مراد اپنے خاندان، قبیلے، نسل یا ملک کو خود پر افضل اور برتر سمجھنا اور ہر حال میں اپنی قوم کی حمایت و طرفداری کرنا اور اپنی قوم کا پاس رکھنا ہے،
چاھے وہ حق پر ہوں یا غلطی پر ہوں۔
اور عصبیت کا معنی بھی تقریباً یہی ہے چناچہ
صاحب المنجد کے نزدیک پٹی باندھنا، تعصب سے کام لینا، دھڑے بندی اور دلیل ظاہر ہونے کے بعد حق بات کو نہ ماننے کا نام عصبیت ہے
اور صاحب فیروز اللغات کے نزدیک عصبیت کے معنی طرفداری کے ہیں۔
یعنی حق اور باطل صحیح اور غلط کو جانچے اور سمجھے بغیر ہر حال میں اپنی قوم یا اپنی قوم کے کسی فرد کی طرفداری کرنا یا اسکا دفاع کرنا عصبیت یا قوم پرستی کہلاتی ہے۔
قرآن و احادیث میں عصبیت یعنی قوم پرستی کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
اب آتے ہیں بھنبھرو صاحب کے استدلالات کی طرف...
کہتے ہیں حضور نےﷺ نے طائف میں کافروں کیلئے دعا کرتے ہوئے فرمایا
’’ اللھم اھد قومی فانھم لا یعلون‘‘
یااللہ میری قوم کو ھدایت دے وہ مجھے نہیں جانتے 
اس میں حضورﷺ نے کافروں کو اپنی قوم فرمایا 
اسی طرح دیگر انبیاء کرام نے بھی کافروں کو "یا قومِ اعبدو اللہ" کہ کر خطاب کیا
اس سے معلوم ہوا کہ قوم کی بنیاد مذھب پر نہیں ہے بلکہ زبان پر ہے۔
جواب:
جیساکہ پیچھے ذکر ہوچکا کہ کبھی ھم زبان یا ھم ھم برادری یا ھم قبیلہ ہونے پر قوم کا اطلاق ہوتا ہے تو یہاں پر بھی یہی مراد ہے یعنی میری زبان بولنے والے یا میرے علاقے کے رہنے والے مجھے نہیں پہچانتے۔
اسی طرح دیگر انبیاءکرام نے کافروں کو جو اپنی قوم فرمایا اسکا مطلب بھی قبیلے والے زبان والے، نسب والے یا علاقے والے مراد ہیں۔
لھذا ھم ھندؤوں اور دیگر کافروں کو سندھ میں رہنے اور سندھی زبان بولنے کی وجہ سے تو سندھی قوم کہ سکتے ہیں لیکن مذھبی حیثیت سے وہ ایک الگ قوم ہیں اور ھم الگ۔
اور مذھب سے ہی قوم کی پہچان ہوتی ہے جیساکہ ڈاکٹر اقبال نے کہا ہے
قوم مذہب سے ہے’مذہب جو نہیں’تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں،محفلِ انجم بھی نہیں
اور جب ھم یہ کہتے ہیں کہ ھندو الگ قوم ہے اور مسلم الگ تو اس سے یہی مراد ہوتی ہے۔
اور یہ بھی یاد رہے کہ انبیاء کرام نے ابتداءً کافروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے اور اپنائیت کا احساس دلانے کیلئے "یا قومِ اے میری قوم"  کہ کر خطاب کیا لیکن جب انہوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور سرکشی کی تو اب انہیں "یاقومِ" کہ کر نہیں بلکہ کافر کہ کر خطاب کیا اور اللہ کی طرف سے انہیں سختی کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا گیا
مثلاً حضرت نوح علیہ السلام نے پہلے  کافروں کو یاقومی کہ کر خطاب کیا لیکن جب انہوں نے سرکشی کی تو انکو کافر کہ کر انکےلئے عذابِ الاھی کی دعا کی چناچہ فرمایا
رَبِّ لا تَذَرْ عَلَى الأرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا
اے میرے رب زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ۔ 
اسی طرح حضورﷺ نے بھی پہلے میری قوم کہ کر انہیں اپنائیت کے احساس دلاتے رہے اور نرمی سے پیش آتے ریے اور انکیلئے دعائیں فرماتے رہے لیکن بعد میں جب اُنکے ظلم اور سرکشیاں حد سے بڑھ گئیں تو خدا نے انکو کافر کہ کر خطاب کرنے کا اور سختی سے پیش آنے کا حکم دیا اور فرمایا
قُلْ يَآ اَيُّـهَا الْكَافِرُوْنَ
تم فرماؤ اے کافرو!
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الۡکُفَّارَ وَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ اغۡلُظۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۷۳﴾
اے نبی جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پر اور ان پر سختی کرو،
اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیا ہی بری جگہ ہے پلٹنے کی۔  
اسی طرح کافروں کو مختلف انبیاء کرام کی امت بھی کہا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ امت دو طرح کی ہوتی ہے
1-امتِ دعوت 
2- امتِ اجابت
جن جن لوگوں کی طرف انہیں نبی بناکر بھیجا گیا اور جن تک انکی دعوت پنہنچی انہیں امت دعوت کہا جاتا ہے
اور جن لوگوں نے انکی دعوت کو قبول کیا وہ امت اجابت کہلاتی ہے
تو جہاں جہاں کافروں کو انبیاء کرام کی امت کہا گیا وہاں امت دعوت مراد ہے
اور جہاں انکی امت کیلئے آخرت میں بخشش و نجات یا اجر و ثواب کی بات ہوتی ہے وہاں امت اجابت مراد ہوتی ہے یعنی جن لوگوں نے انکی دعوت کو قبول کیا اور انکے دین میں داخل ہوئے۔
اسی طرح بھنبھرو صاحب نے
 وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا 
اور اس جیسی آیات سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ دیکھو انبیاء کرام کو بھی کافروں کا بھائی کہا گیا ہے۔
جواب:
اس جیسی آیات جن میں کافروں کیلئے انبیاء کرام کو "اخ" کہا گیا ہے اس کیلئے عرض یہ ہے کہ قرآنی اصطلاح میں"اخ" کا لفظ چھ معانی کیلئے استعمال ہوتا ہے
نسبی بھائی
قومی اور خاندانی بھائی
ھم وطن
ھم مذھب
ھم خیال
اور ھم جنس
لھذا ان آیات سے مراد ھم جنس ہے یعنی ھم نے انبیاء کرام کو فرشتہ یا جن بناکر نہیں بھیجا بلکہ انکی ھم جنس انسان بناکر بھیجا۔
اور اخ لفظ کا یہی معنی تمام مفسرین نے بیان کیا ہے
لیکن افسوس ہے کہ بھنبھرو صاحب نے اپنی غلط بات کو درست ثابت کرنے کیلئے قرآن کے الفاظ کا اپنا من پسند معنی بیان کیا جسکو تفسیر بالراء کہتے ہیں اور قرآن کی تفسیر اپنی راء اور سوچ کے مطابق کرنا حرام ہے۔
لھذا اخ کا وہ معنی جو بھنبھرو صاحب نے مراد لیا ہے وہ درست نہیں ہے کیونکہ کفر انسان کو بھائی تو کیا اھل سے ہی خارج بنا دیتا ہے
جیساکہ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا جب ان پر ایمان نہ لایا تو اللہ نے فرمایا
یٰنُوۡحُ اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنۡ اَہۡلِکَ
اے نوح وہ تیرے اھل میں سے نہیں ہے۔
حالانکہ وہ انکا نسبی بیٹا تھا۔
اور اسلام ایمان لانے کے بعد قومی رشتے سے بڑھ کر "اخوت" کا رشتہ عطا کرتا ہے اور نسل، نسب وطن اور زبان مختلف ہونے کے باوجود انسان کو ایک دوسرے کا بھائی بنادیتا ہے جیساکہ اللہ نے فرمایا
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ اِخْوَۃٌ
یعنی مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔
اور حضورﷺ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جو کہ فارسی النسل تھے ایمان لانے کے بعد انکے متعلق فرمایا
سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ
سلمان ھمارے اھل بیت میں سے ہے۔جبکہ کفر کے بارے میں حدیث پاک میں ہے
الْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ 
تمام کفر ایک ہی ملت ہے
لھذا سارے کافر ایک ہی قوم اور ملت ہیں چاھے وہ کسی بھی مذھب یا ملک سے تعلق رکھتے ہوں یا کوئی سی بھی زبان بولتے ہوں۔
بھنبھرو تو دنیا سے چلے گئے لیکن انکے چاھنے والوں سے گذارش کرونگا خدارا صرف ایک دو آیات اور احادیث لیکر انکا من پسند معنی بیان کر کہ اپنا مقصد نکالنے کی کوشش نہ کریں پورا قرآن پڑھیں اور  تمام آیات کو سمجھیں ورنہ بعض آیات کو ماننا اور بعض کا انکار کرنا اسے قرآن پاک میں کافروں اور منافقوں کی علامت اور نشانی بتائی گئی ہے۔
بحرحال کوئی کافر مذھبی حیثیت سے ھمارا بھائی تو نہیں بن سکتا البتہ ھم وطن اور ھم قوم ہونے کی حیثیت سے انکو تمام مذھبی آزادی حاصل ہوگی اور انکے ساتھ حسن سلوک بھی کیا جائیگا کسی قسم کی کوئی زیادتی نہیں کی جائیگی اور ظلم و زیادتی کی صورت میں انکے ساتھ ھمدردی کا اظھار اور بھرپور حمایت کی جائیگی یہی ھمارے دین کی تعلمیات ہیں۔
اسلام سندھ کا مقدر ہے
تاجدارختم نبوتﷺرھبر ہے
تحرير........ ابو طلحه سندهی