![]() |
قربانی کے بارے میں مسلمان اور ایک ملحد کے درمیان مکالمہ |
ملحد: مسلمان بڑے ظالم ہیں۔
مسلمان: وہ کیسے؟
ملحد: ہر سال جانوروں کی قربانی کرتے ہیں جو کہ بے زبان جانوروں پہ ظلم ہے۔
مسلمان: قربانی کرنا ظلم ہے یا جانوروں کو ذبح کرنا؟
ملحد: قربانی میں جانوروں کو ذبح ہی تو کیا جاتا ہے۔
مسلمان: پھر لگتا ہے آپ سارا سال بیماری یا طبعی موت مرنے والے مردار جانوروں کا گندہ گوشت کھاتے ہونگے۔
ملحد: نہیں ایسا تو نہیں ہے ہم بلکل فریش گوشت کھاتے ہیں.
مسلمان: اچھا! وہ فریش گوشت لاتے کہاں سے ہو؟
ملحد: بازار سے قصاب سے لیکر آتے ہیں۔
مسلمان: قصاب بھی تو روزانہ ہزاروں جانور ذبح کرتے ہیں اور آپ انہیں سے خرید کر کہ مزے سے کھاتے ہو کیا یہ ظلم نہیں ہے؟؟
ملحد: لیکن ذبح تو قصاب ہی کرتے ہیں ہم تھوڑی کرتے ہیں پھر ہم ظالم کیوں ہونگے؟
مسلمان: اگر کوئی آدمی چوری یا ڈکیتی کر کہ کسی سے زبردستی مال چھین کر آپکے پاس لیکر آئے اور آپ کو معلوم بھی ہو کہ یہ چوری یا ڈکیتی کا مال ہے تو کیا آپ اُس سے وہ مال خریدینگے؟؟
ملحد: بلکل بھی نہیں
مسلمان: کیوں؟
ملحد: چور یا ڈاکو سے چوری یا ڈکیتی کا مال خریدنا قانونی اور اخلاقی جرم ہے کیونکہ یہ اس ظلم پر مدد کرنا ہے اور ظلم پر مدد کرنا بھی ظلم شُمار ہوتا ہے۔
مسلمان: آپکے بقول جانوروں کو ذبح کرنا ظلم ہے اور قصاب جانوروں کو ذبح کرتے ہیں اور آپ لوگ ان سے گوشت خرید کر کہ کھاتے ہو کیا یہ ظلم پر مدد کرنا نہیں ہے؟ پھر تو آپ بھی بڑے ظالم ٹھرے۔
ملحد: لیکن کبھی کبھار گوشت کھانا تو انسان کی ضرورت ہے نا، کیونکہ یہ صحت کیلئے مفید ہے۔
مسلمان: جو کام تمہاری ضرورت ہو اور صحت کیلئے مفید ہو وہ تمہارے نزدیک درست، اور جو کام غریبوں کی ضرورت اور انکے فائدے کیلئے ہو وہ ظلم؟!! اسکا مطلب آپ غریبوں کے دشمن ہیں۔
ملحد: ہم غریبوں کے دشمن نہیں جانوروں پر ظلم کے خلاف ہیں۔
مسلمان: لگتا ہے آپ شادیوں میں مہمانوں کو گوشت کے بجائے دال روٹی پیش کرتے ہونگے اور گھر پر آنے والے مہمانوں کی بھی اچار روٹی کیساتھ تواضع کرتے ہونگے؟؟
ملحد: بھئی! ایسے مواقع پر گوشت کا استعمال معاشرتی ضرورت ہے
مسلمان: مطلب آپ خود ذبح شدھ گوشت کھائیں تو صحت کی ضرورت، خوشی کے مواقع پر یا گھر پر آنے والے مہمانوں کو کھلائیں تو معاشرتی ضرورت، اور اگر مسلمان قربانی کی نیت سے جانور ذبح کر کہ خود بھی کھائیں اور اُن غریبوں اور محتاجوں کو بھی مفت میں کھلائیں جو پورا سال گوشت خرید کر کہ نہیں کھا سکتے تو یہ ظلم ہوگیا؟؟؟ منافقت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے!!
ملحد: لیکن قربانی میں شادیوں کے مقابلے میں جانور زیادہ ذبح کئے جاتے ہیں اس لئے یہ درست نہیں۔
مسلمان: پہلی بات! ظلم ظلم ہی ہوتا ہے چاہے وہ تھوڑی مقدار میں کیا جائے یا زیادہ! مثلاً جس طرح سو آدمیوں کو ناحق قتل کرنا ظلم ہے اسی طرح کسی ایک آدمی کو ناحق قتل کرنا بھی ظلم ہی ہے، ایسا تو ہو نہیں سکتا ہے کہ سو آدمیوں کا قاتل ظالم ٹھرے اور کسی ایک آدمی کو قتل کرنے والا نیک اور رحمدل کہلائے!
دوسری بات! پاکستان میں حلال جانور لاکھوں کی تعداد میں پالے جاتے ہیں ان میں سے بمشکل دو یا تین فیصد جانور اپنی طبعی موت مرتے ہونگے باقی تقریباً 97 فیصد جانور مختلف مواقع پر ذبح ہی کئے جاتے ہیں ان میں سے کچھ قربانی کے موقع پر ذبح ہوتے ہیں باقی سارے روزانہ ہزاروں کے تعداد میں مختلف مواقع پر ذبح کئے جاتے ہیں اور سال میں انکی تعداد لاکھوں کروڑوں تک پہنچ جاتی ہے اور ان ذبح شدھ جانوروں کا گوشت شادیوں میں اور مختلف خوشی کے مواقع پر، ہوٹلوں میں اور گھروں میں روزانہ کی بنیاد پر پکاکر کھایا جاتا ہے اس پر تو آپ نے کبھی آواز نہیں اٹھائی کہ اتنے جانور ذبح کیوں کئے جاتے ہیں؟ نہ ہی تم اسے ظلم تصور کرتے ہو! لیکن اگر قربانی کے موقع پر جانور ذبح ہوکر غریبوں کو کھانے کیلئے مفت میں مل جائے تو اس پر تمہیں اعتراض ہے؟؟؟
باقی باتیں چھوڑیں یہ بتائیں روزانہ کتنی فارمی مرغیاں ذبح ہوکر تمہارا پیٹ بھرتی ہیں؟ یقیناً انکی تعداد لاکھوں میں ہوگی۔ کیا کبھی ان بے زبان مرغیوں کیلئے آواز اٹھائی کہ اتنی روزانہ کیوں ذبح کی جاتی ہیں؟ کبھی حکومت سے مرغیوں کے ذبح پر پابندی کا مطالبہ کیا؟؟ اگر نہیں کیا تو کیوں؟ کیا یہ جاندار نہیں ہیں؟؟
ملحد: بھئی! آپ سمجھنا نہیں چاہتے لہٰذا آپ کو سمجھانا فضول ہے اب میں چلتا ہوں۔
مسلمان: ہم سمجھنا نہیں چاہتے یا تم سدھرنا نہیں چاہتے؟؟؟
ذرا رکو! یہ تو بتاؤ قربانی کے جانوروں کی تو تمہیں بڑی فکر ہے لیکن بچاری بے سہارا فارمی مرغیوں کے حقوق کیلئے کب آواز اٹھا رہے ہو؟
ملحد: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی جواب نہیں
مسلمان: اچھا یہ بتاؤ! کل ہمارے یہاں خوبصورت بیل کی قربانی ہے تو (بقول تمہارے ظلماً ذبح کئے ہوئے) اُس جانور کا گوشت تمہارے گھر پہ بھیجوں یا نہیں؟؟؟
ملحد: وہ آپکی مرضی ہے اب میں چلتا ہوں۔🤭
تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔ ابو طلحہ سندھی

0 تبصرے